. ﺩﻭ ﮨﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ
ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ، ﺣﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ
ﻧﯿﻨﺪ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ
. کیا
قصور
تھا
ہمھارا
جو
ہم
سے
بات
کرنا
چھوڑ
دیا
☆دوست☆
وفا
راس
نہیں
آئی
یا
ہمھاری
غریبی
اچھی
نہیں
لگی۔۔۔۔
...لگتا ہے کہ قاصد بھی رقیبوں سے جا ملا
درختوں سے تعلق
کا ہنر تو سیکھ لے انساں
🎋💝 جڑوں میں زخم لگتے ہیں ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں
چھوڑنا ہی تھا
تو کوئی اور وجہ بتاتی
باجا تو تیرا بھائی بھی بجا رہا تھا
حالات کی اک ضرب
نے صورت ہی بدل دی
مجھ سے میری تصویر ذرا بھی نہیں ملتی
آو کچھ دیر تزکرہ
ہی کر لیں۔۔
ان دنوں کا۔۔۔جب تم ہمارے تھے۔۔
ہُوا اب جو رابطہ
تو اس کو بتاؤں گا
تیرا نہ ملنا تیرے چھوڑ جانے سے بہتر ہے
ہم بھی گھر سے
منیر تب نکلے
بات اپنوں کی جب سہی نہ گئی
ہم وقت کی رفتار سے بدلنےوالے لوگ نہیں
.ہماری ملاقات جب بھی ہو گی انداز پرانا ہوگا
عمر بھررہے تیری
جستجو میں ہم
تو نہ ملا کسی کافر کو جنت کی طرح
تمام شہر کا موضوع
گفتگو ہے وہی
اسے کہنا بہت عام ہو رہا ہے وہ
کرو پھر سے کوئی
وعدہ کبھی نہ پھر بچھڑنے کا
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ، بچھڑنے میں مکرنے میں
خیال یار میں نیند کا تصور کیسا
آنکھ لگتی ہی
نہیں جب سے ہے
آنکھ لگی
1 Comments
very beautiful poetry
ReplyDeleteif you have problem, please let me know
Emoji